کیلے اور دار چینی کے استعمال کے زبردست فوائد

کیلے

دارچینی کا شمار دنیا بھر میں استعمال ہونے والے معروف ترین مصالحہ جات میں ہوتا ہے۔ اس کی مہک روئے زمین پر موجود بہترین خوشبوؤں میں جانی جاتی ہے۔ دارچینی کی پیداوار دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی ہے ان میں سری لنکا، بھارت، مڈگاسکر، برازیل، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور جزائر غرب الہند شامل ہیں ۔دارچینی.. کیلشیئم ، ریشے اور مینگنیز سے بھرپور ہوتی ہے۔یہ صحت کے لیے بہت سے فوائد کی حامل ہے تاہم اس کا بکثرت استعمال صحت کے لیے خطرناک مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

طبی امور سے متعلق ویب سائٹ “بولڈ اسکائی” کے مطابق دارچینی کے زیادہ استعمال کے درجِ ذِیل 7 نقصانات ہیں:دارچینی کے زیادہ استعمال سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ اس واسطے دل کے مسائل سے دوچار افراد کو دارچینی کے استعمال سے خبردار کیا جاتا ہے ۔2 – جسم کا درجہ حرارتدارچینی زیادہ کھانے سے انسانی جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ لہذا جسم میں کسی بھی انفیکشن کے متاثرہ افراد کو ڈاکٹروں کی جانب سے متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ دارچینی کا بہت زیادہ استعمال نہ کریں۔دارچینی سے بعض افراد کو بعض نوعیت کی الرجی ہو سکتی ہے۔ یہ الرجی نکسیر پھوٹنے ، آنکھوں کی سوزش ، معدے میں درد ، ہاتھوں اور چہرے پر سُوجن اور غنودگی کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

دوران حمل خواتین کے لیے دارچینی کا استعمال مناسب نہیں۔ دارچینی کے سبب قبل از وقت دردِ زہ اور رحم کے سُکڑنے کا وقوع ہو سکتا ہے۔طبی مطالعوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دارچینی کے بکثرت استعمال سے خون میں شکر کی سطح کم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں عام انسان کو چکر آ سکتے ہیں۔انسانی جلد پر دارچینی کے تیل کا وہ ہی اثر ہوتا ہے جو تیز مرچ کے پاؤڈر کا جلد پر ہوتا ہے۔ یعنی کہ اس سے جلد پر شدید جلن کا احساس ہوتا ہے۔دارچینی کو ایک قسم کا اینٹی بائیوٹک شمار کیا جاتا ہے۔ لہذا اگر آپ کسی بیماری کے سبب کسی بھی نوعیت کی اینٹی بائیوٹک کھا رہے ہیں تو آپ کو دارچینی نہیں کھانا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ معالج کی دواء کے ساتھ مل کر ایک دوسرے پر اثر کر دے اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں