رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات

معجزات

دیئے معجزے انبیاء کوخدانے ہمارانبی ﷺمعجزہ بن کے آیا اللّٰہ رب العزت نے اپنی لاریب کتاب قرآن مجیدفرقا ن حمیدبرھان عظیم میں ارشادفرمایاہے۔ترجمہ’’ اے لوگوبیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک واضح دلیل آگئی ہےاورہم نے تمہاری طرف ایک روشن نوراتاراہے ۔ (سورۃ النساء آیت۵۷۱) اللہ رب العزت نے نسل انسانیت کی رہنمائی کیلئے اپنے انبیاءورسل مبعوث فرمائے تاکہ اپنے برگزیدہ ہستیوں کے واسطے سے بندوں تک اپنے احکام پہنچائے اس خالق کائنات اللہ رب العالمین کاکروڑوں ہاشکرعظیم ہے کہ

اس نے ہمیں انبیاء ورسل کے سردارجناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفی رسول عربی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی امت میں پیداکیا۔انبیاء اوررسولوں کی نبوت اوررسالت کی دلیلوں کومعجزہ کہاجاتاہےاللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرنبی کواس کی نبوت ورسالت کے ثبوت کیلئے دلیل کے طورپرمعجزات عطاکئے جن کولوگوں کے سامنے پیش کرکے انبیاء اوررسولوں نے اپنی نبوت ورسالت کاثبوت پیش کیا۔ آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے پہلے جتنے بھی پیغمبریارسول آئے وہ سب ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہوئے اورانہوں نے اُسی قوم کوسیدھے راستے پرلانے کیلئے معجزات ظاہرکیے۔اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کوایک معجزہ دیا،کسیکودو کسی کوتین معجزے عطافرمائے ۔آدم علیہ السلام معجزہ لیکرآئے ۔نوح علیہ السلام معجزہ لے کرآئے۔موسی علیہ السلام معجزہ لیکرآئے ۔عیسیٰ علیہ السلام معجزہ لیکرآئے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سراپامعجزہ بن کر آئے۔آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کادیکھنامعجزہ،آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کابولنامعجزہ ،آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کابیٹھنا معجزہ ،آپ ﷺ کی ذات ،آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی صفات آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ہرادامعجزہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کوجومعجزات عطافرمائے وہ صرف انکی ظاہری حیات مقدسہ تک دیکھے جاسکتے تھے ۔ اگرآج ہم موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے پوچھیںکہ کیاتمہارے نبی سیدناموسی علیہ السلام کے پاس معجزات تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں۔ اگران کویہ کہاجائے کہ اس وقت بھی موسیٰعلیہ السلام کامعجزہ دکھاسکتے ہوتووہ کہیں گے ان تمام معجزات کوانکی ظاہری حیات مقدسہ میں ہی دیکھا جاسکتا تھا اب ہم نہیں دکھاسکتے ۔اگرعیسی علیہ السلام کے ماننے والوں سے پوچھاجائے توبھی یہی جواب ملے گا۔پرقربان جائیں ہم اپنے آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرکہ آج بھی ہم سے کوئی پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے معجزات توہم علی الاعلان کہیں گےکہ اے میرے نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے معجزات کے بارے میں سوال کرنے والو!قرآن پاک کی زیارت کرلویہ قرآن پاک میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کاوہ معجزہ ہے

جو قیامت تک باقی رہے گا۔ قرآن پاک کاہرلفظ،ہرشد،مد،زیر، زبرعظمت مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی گواہ ہیں ۔ معجزہ کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ معجزہ اس امرکوکہتے ہیں جو مدعی نبوت کےہاتھ پرظاہر ہو اور تمام کل عالم اسکے معارضہ اور مقابلہ یعنی اسکی مثل لانے سے عاجزاوردرماندہ ہوتاکہ منکرین اورمخالفین پریہ بات واضح ہوجائے کہ یہ شخص کوئی عام نہیں بلکہ خداکابرگزیدہ ہے ۔ آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی نبوت ورسالت چونکہ تمام عالم کیلئے ہے اورقیامت تک کیلئے ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوجملہ اقسام عالم سے معجزات اورنشانات عطا فرمائے تاکہ عالم کی ہرچیز آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی نبوت کی دلیل اوربرہان ہواورعالم کی کوئی نوع ایسی باقی نہ رہے جوآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی نبوت کی شہادت نہ دے۔چونکہ آقا ﷺساری کائنات کیلئے رحمۃاللعالمین اورخاتم النبیین بن کرآئے ۔

اس لئے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے معجزات بے شمارہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےوہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضرہوااورعرض کیا مجھے کیسے علم ہوگاآپ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایااگرمیں کھجورکے اس درخت پرلگے ہوئےاس کے گُچھے کو بلائوں توکیاتو گواہی دے گاکہ میں اللہ تعالیٰ کارسول ہوں؟پھرآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے بلایاتووہ درخت سے اترنے لگا یہاں تک کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے قدموں میں آگرا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے فرمایا واپس چلے جائوتووہ واپس چلاگیااس اعرابی نے (نباتات کی محبت واطاعت رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کایہ منظر)دیکھ کراسلام قبول کرلیا۔ ایک مرتبہ مشرکین مکہ آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے پاس آئے اورکہنے لگے اگرآپ اللہ پاک کے سچےرسول ہیںتوچاندکے دوٹکڑے کرکے دکھائو

آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاپھرکیاتم مجھ پرایمان لائوگے۔انہوں نے کہا اگرآپ چاندکے دوٹکڑے فرمادیں توہم آپ کاکلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں گے چنانچہ اس رات چاندکی چودہ تاریخ تھی چانداپنے پورے شباب کے ساتھ چمک رہا تھاجونہی آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنی انگشت مبارکہ سے چاند کی طرف اشارہ کیاتوچانددوٹکڑے ہوگیا۔ حضرت ابوزیدانصاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے فرمایامیرے قریب ہوجائوپھرمیرے سراورداڑھی مبارک پر اپنا دستِ مبارک پھیرااوردعافرمائی۔الٰہی !اسے زینت بخش اوراسکے حسن وجمال کودوام عطافرما (راوی کہتے ہیںکہ) انہوںنے سوسال سے زیادہ عمرپائی لیکن انکے سراور داڑھی کے چندبال ہی سفیدہوئے تھےان کاچہرہ صاف اورروشن رہااور تادمِ آخرایک ذرہ بھرشکن بھی چہرہ پر نمودارنہ ہوئی۔ (رواہ احمد) سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ

ایک انصاری گھرانے میں ایک اونٹ تھاجس پر(وہ کھیتی باڑی کیلئے)پانی بھرا کرتے تھےوہ ان کے قابومیں نہ رہااورانہیں اپنی پشت(پانی لانے کے لئے)استعمال کرنے سے روک دیا۔ انصارصحابہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے۔آقا صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہمارا ایک اونٹ تھاہم اس سے کھیتی باڑی کیلئے پانی لینے کاکام لیتے تھے اوروہ ہمارے قابومیں نہیں رہااوراب وہ خودسے کوئی کام نہیں لینے دیتا،ہمارے کھیت کھلیان اورباغ پانی کی قلت کے باعث سوکھ گئے ہیں۔قربان جائوں اپنے آقاجناب محمد مصطفی رسولعربی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پرآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے صحابہ کرام کوفرمایااٹھوپس سارے اٹھ کھڑے ہوئے اوراس انصاری کے گھرتشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم احاطہ میں داخل ہوئے تواونٹ جوکہ ایک کونے میں تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اونٹ کی طرف چل پڑے توانصارکہنے لگے‘ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم یہ اونٹ کتے کی طرح بائولاہوچکا ہے اورہمیں اس کی طرف سے آپ پرحملے کا خطرہ ہے۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔اونٹ نے جیسے ہی آقادوجہاں سرور کون ومکاںشافع روزمحشر صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کو دیکھاتو آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی طرف بڑھا یہاں تک قریب آکر آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے سامنے سجدہ میں گرپڑا۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے پیشانی سے پکڑا اور حسب سابق دوبارہ کام پر لگا دیا صحابہ کرام علیہم الرضوان نے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!یہ توبے عقل جانورہوتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوسجدہ کررہاہے اورہم توعقل مندہیں۔ اس سے زیادہ حقدارہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوسجدہ کریں ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!ہم جانوروں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوسجدہ کرنے کے حقدارہیں آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاکسی فردبشرکیلئے جائز نہیں کہ وہ کسی بشرکوسجدہ کرے اوراگرکسی بشرکوسجدہ کرنا جائز ہوتا تومیں بیوی کوحکم دیتاکہ وہ اپنے شوہرکو اسکی قدرومنزلتکی وجہ سے سجدہ کرےجوکہ اسے بیوی پرحاصل ہے۔ (احمدبن حنبل،طبرانی) درج بالاحدیث مبارکہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ہروقت صحابہ کرام علیہم الرضوان کادل سجدہ کرنے کیلئے مچلتا تھا۔آج جولوگ یہ کہتے پھررہے ہیں کہ نمازمیں نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کاخیال آنے سے نمازٹوٹ جاتی ہے ۔خداکے بندوآئواس حدیث مبارکہ کامطالعہ کرو۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے عہدمبارک میں سورج گرہن ہوا

اورآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے نمازکسوف پڑھائی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے دیکھاکہ آپ نے اپنی جگہ پرکھڑے کھڑے کوئی چیزپکڑی پھرہم نے دیکھاکہ آپ کسی قدرپیچھے ہٹ گئے؟آقادوجہاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نےفرمایا!مجھے جنت نظرآئی تھی میں نے اس میں سے ایک خوشہ پکڑلیااگراسے توڑ لیتاتوتم رہتی دنیاتک اسے کھاتے رہتے (اوروہ ختم نہ ہوتا)”۔(بخاری،مسلم شریف) اللہ پاک ہمیںسرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے اسوہ حسنہ پرچلنے اوراس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔وطنِ عزیز پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے ۔ملک پاکستان میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم !برپا کرنیوالاحکمران عطافرمائے ۔بروزقیامت آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم !کی شفاعت اوراپنی جنت کاحقداربنائے ۔مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحادنصیب فرمائے ۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے غلاموں کابول بالافرمائے۔دشمنان ِ اسلام،منافقین ،حاسدین کامنہ کالا فرمائے ۔اللہ پاک میرے اس کاوش کوبارگاہ ِ لم یزل میں قبول فرمائےاوراسے بروزقیامت ہم سب کے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔آمین ثم آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں