”بس اللہ پاک کا ایک نام پڑھ لیں ! اتنا رزق عطا کیا جائے گا کہ کھا کھا کر تھک جائیں گے مگر ختم نہیں ہوگا

اللہ

ہ باتیں سن کر اس شخص نے پھر اصرار کیا تو فرمایا ’’خیریاباسطاً بسط فی رزقی‘‘ پڑھا کرو لیکن مسجد سے باہر۔ خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام؟حضرت خواجہ محمد عبدالرحمن چوہردیؒ کے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سے محبانہ تعلقات تھے۔ ایک دفعہ حضرت گولڑوی نے خواجہ صاحب

کے فقر اور افلاس کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ فلاں وظیفہ پڑھا کریں تو آپ کا لنگر خوب چل جائے گاور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔خواجہ صاحبؒ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ جب حضرت گولڑویؒ نے دو تین مرتبہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا۔’’حضرت مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ مجھے پیر سمجھ کر آئیں اور اندر پیر پیسوں کا وظیفہ پڑھتا ہو‘‘۔حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے فرمایا ’’مرحبا جیسا آپ کو سنا تھا ویسا ہی پایا‘‘۔ایک

مرتبہ ایک شخص نے حضرت مخدوم جہانیاںؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں حج پر جانا چاہتا ہوں لیکن استطاعت نہیں ہے آپ بادشاہ کو لکھیں کہ وہ سرکاری خزانہ سے مجھے زادِ راہ عنایت فرمائے۔ آپ نے یہ سن کر محرروں سے فرمایا کہ بادشاہ کو لکھ دو کہ اس شخص کو زادِ راہ عنایت کیا جائے لیکن میں نے فقہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص بادشاہوں سے خرچ لے کر حج کو جاتا ہے اس کا حج قبول نہیں ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں